غزل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی "عورتوں سے باتیں کرنا" یا "عورتوں کی باتیں کرنا" ہے۔غزل شاعری کی ایک ایسی صنف ہے جو عربی ادب سے آئی ہے۔ یہ ایک مخصوص ہیئت (form) کی حامل ہوتی ہے، جس میں ہر شعر اپنے آپ میں مکمل ہوتا ہے اور ایک الگ موضوع رکھتا ہے۔ غزل میں عموماً عشق، محبت، درد، اور فلسفیانہ خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے۔
غزل اردو زبان کی سب سے مشہور و مقبول صنف سخن ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک اکائی کی حیثیت رکھتا ہے یعنی اس کے ہر شعر میں ایک مکمل مضمون بیان ہوا ہوتا ہے۔مثلاً ولی کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں؎
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
غزل کی مقبولیت کا سب سے بڑا راز اس میں عشقیہ مضامین کا برتنا ہے۔ عشق دو طرح کا ہوتا ہے۔ عشق مجازی اور عشق حقیقی۔یہ دونوں غزل کے اہم موضوعات ہیں۔عشقیہ جذبات کو بہترین الفاظ میں ایک شعر یا دو مصروں میں بیان کرنے کا ہنر غزل میں موجود ہوتا ہے ۔یہ جگر مرادآبادی کا شعر دیکھیے؎
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
غزل کی مقبولیت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ غزل آسانی سے کہہ لی جاتی ہے۔ جو شخص ذرا سا بھی موزوں طبع ہوگا غزل کہہ لے گا۔ غزل کی مقبولیت کا ایک سبب غزل کا انداز بیان ہے جو دل ہی میں نہیں اترتا بلکہ حافظے پر بھی نقش ہوجاتا ہے۔ بہترین شعر ایک طور پر وہ ہے جو ضرب المثل بن جائے۔ غزل کو محبوب مقبول بنانے میں مشاعرے، رزم و بزم کی محفلیں، تحریر و تقریر میں برمحل اشعار کا استعمال اور اس طرح کی دوسری تقریبیں بہت زیادہ کارآمد رہی ہیں۔ غالباً کسی اور معاشرے میں اچھے اشعار کی اتنی زبردست طلب محسوس نہ کی جاتی ہو گی جتنی اردو سماج میں کی جاتی ہے۔ پروین شاکر کا مشاعرہ میں سنایا گیا شعر ملاحظہ ہوں؎
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
غزل کہنے میں سہولت ہے اور اتنی ہی دقت بھی کہ جو بات کہنی ہوتی ہے مختصر سے مختصر الفاظ میں جلد سے جلد کہہ کر ختم کر دی جاتی ہے۔ یہ چند الفاظ میں بڑی بات یا ایک موضوع کہہ دینا غزل کی مقبولیت کا ایک اہم سبب ہے۔اسی ضمن میں یہ شعر دیکھیے؎
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
غزل میں موضوعات کی کوئی کمی نہیں ،دنیا کے کسی بھی موضوع پر غزل گو شاعر غزل کہہ سکتے ہیں۔غزل کی مقبولیت کا یہ ایک اہم سبب ہے۔
Bohot achha hai ye Note
ReplyDelete